haunted places of pakistan haunted places in lahore haunted places in karachi mystery of karsaz road dalmia road shamshan ghat hyderabad sindh shireen cinema sheikhupura fort moti mosque masjid LWCU lahore college women haunted DHA phase 3 properties & haunted park nau nehal singh haveli old lahore kala bagh dam lake saif ul malook sukkur haunted haveli hawks bay hut
HAUNTED PLACES IN PAKISTAN - AN INTRODUCTION TO MY HAUNTED PAKISTAN
Pakistan, a property rich in history, society, and mystique, is actually
certainly not unsusceptible the super ordinary. From old fortress to
deserted residences, the country accommodates stories of supernatural encounters
and eerie incidents. In this particular exploration of paranormal, our
team introduces 12
top most haunted places in Pakistan, where free throw line between the
residing and also the stagnant blurs.
Among them 6 places straightly exists in Karachi city/ only. 2 exists in rest of the Sindh province, at Sukkur City the Haveli of Bander Road and the SHAMSHAN GHAT cemetery in Hyderabad City Sindh. Hyderabad City is also known as the CITY'S OF SPIRITS in Pakistan. The most spiritually hauntedcity by the spirits of Pakistan is Hyderabad. Hyderabad city is in south region of Pakistan at the bank of
Indus River.
In Hyderabad, most haunted places is Shamshan Ghat Cemetery of
Hindus burning and burial point, the second one is Kacha & Pakka
Qila the old historical fort and the third one is Railway Station of
Hyderabad City at the Pakistan's main railway line.
Two
haunted places exists in Punjab province, Kala Bagh Dam Area
and 400years old Sheikhupura Fort,
built by the Mughal Emperors. One place is haunted in Khyber Pakhtun Khwa
province Lake Saif-ul-Malook and one place is "Koh-e-Chiltan", the
mountains of Balochistan Province.
سرسبز و شاداب باغات اور لہلہاتی وادیوں اور ہوا کے جوش و سرمستی میں بہتے
چشموں کے برعکس کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں
موت کے خوفناک
سائے ہمہ وقت اپنے
پر پھیلائے رکھتے ہیں اور زندگی خود اپنے
وجود کو موت کے حوالے کرکے
انجان راہوں پر جا نکلتی ہے۔پاکستان میں
اس وقتٹاپ بارہ جناتی جگہیںموجود ہیںجہاں انسان رات
میں تو کیا دن میں بھی جانے سے کتراتا
ہے۔ان جگہوں کو
HAUNTED PLACES
یعنی ڈراؤنی یا آسیبی جگہیں کہا جاتا
ہے۔ نیچے ان کی تفصیل موجودد ہے جو بالکل ترتیب وار ہے۔ سب سے زیادہ
ڈراؤنی اور آسیبی جگہ کا نام سب سے پہلے آپ پڑھیں گے۔ان جگہوں میں سے کل 8 تو صرف صوبہ سندھ کی ہی ہیں
اور ان
8 میں سے تو صرف 6خالص کراچی شہر میں ہی موجود
ہیں اور
بقایا تمام پورے ملک کی ہیں۔ ویسے تو
جنات ہر جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن ہم بحث کررہے ہیں
پاکستان کی ان جگہوں کی جو سب سے زیادہ آسیبی ہیں۔لاہور میں
بزرگان دین کے مزارات کی
برکت کے باعث وہاں موجود
جنات زیادہ تر
مسلمان ہیں۔ البتہ کچھ علاقوں میں
عیسائی اور ہندو جنات کا زبردست بسیرا بھی ہے۔ اس کے
برعکسکراچی میں منفی جناتی گندگیانتہائی شد ت سے پائی جاتی ہے۔جسے ہم
انگریزی میں یہ کہتے ہیں:۔
NEGATIVE PARANORMALACTIVITY
میرے ذاتی تجربے کے مطابق جیسے جیسے ہم پاکستا ن میں
جنوب کی طرف چلتے چلے جائیں گے ویسے
ویسےمنفی جناتی گندگی میں بھی شدت آتی چلی جائے گی۔ اب حیدرآباد سندھ کا شہر پاکستان میں روحوں کا سب سے بڑا شہر کہلاتا ہے۔
یہاں شمشمان گھاٹ سب سے ڈراؤنا ترین قبرستان ہے جو پورے پاکستان کا
ڈراؤنا ترین ہے۔ جس کا ذکر آپ پاکستان کے ڈراؤنے ترین قبرستان میں پڑھیں
گے۔
اس کے علاوہ حیدرآباد کا کچہ و پکا قلعہ بھی آسیبی ہے اور
حیدرآباد کا ریلوے اسٹیشن بھی کافی حد تک ڈراؤنا مانا جاتا ہے۔ لوگوں
کا کہنا ہے کہ یہ بھی پاکستان کا سب سے زیادہ ڈراؤنا ترین اسٹیشن ہے۔ یہاں کی یہ بات مشہور ہے کہ ایک
نوبہیتا جوڑا پسند کی شادی کرکے
ٹرین سے بھاگ رہا تھا تو ان کے رشتہ
داروں نے انہیں اسٹیشن پر ہی
قتل کردیا۔
یہ انگریز دور کا واقعہ تھا۔ اس کے
بارے میں یوٹیوب پہ وڈیوز موجود ہیں۔
ہم جن آسیبی جگہوں کا ذکر کرنے جا رہے ہیں ان میں سب سے پہلے نمبر پہ
سکھر کے بندر روڈ پر واقع ایک حویلی ہے جو
200 سال سے بھی زیادہ قدیم ہے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
لاہور اسلام آباد ایم 2 موٹروے پہ
بھی جگہ جگہ جنات کا بسیرا ہے۔ جب یہ
2002ء کے وقت میں نیا نیا کھلا تھا
تو اس وقت یہاں بہت زیادہ
حادثات ہوئے تھے۔ ڈرائیور بتاتے تھے
کہ ہماری آنکھوں کے سامنے رات 3 بجے
ایک سفید رنگ کی دیوار آگئی۔ جیسے ہی ہم
نے بریک لگائی گاڑی الٹ گئی۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کراچی کی جناتی گندگی
کراچی کے گلشن اقبال کے بلاک
1 اور
4 میں بھی بہت گھروں میں بسیرا ہے۔ بہت
گھر خالی پڑے ہیں۔ سننے میں آتا ہے کہ وہاں کسی زمانے میں پاکستان بننے سے
پہلے ہندوؤں کا شمشان گھاٹ تھا۔ وہاں
بہت گھروں کے نیچے زیرزمین قبریں آج بھی موجود ہیں۔ کراچی کے بےشمار علاقوں
میں ایسے جنات موجود ہیں جنہوں نے گھروں و پلازوں پہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ
کبھی آباد نہیں ہوسکے۔ بعض پلازے و گھر تو بنتے ساتھ ہی جنات کے قبضے میں
چلے جاتے ہیں۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
پاکستان کے کسی شہر کا سچا واقعہ
سن 90ء کی دہائی میں اخبار جہاں یا جمعہ میگزین میں یہ واقعہ شائع ہوا تھا۔
ایک آدمی قبرستان میں سے گزر رہا تھا۔ اس نے دیکھا ایک قبر ٹوٹی پھوٹی ہے اور
اس میں سے انسان ڈھانچے کی کھوپڑی نظر آرہی ہے۔ ایک بچھو اس کھوپڑی پہ اپنا
ڈنک زور زور سے مار رہا تھا۔ اس آدمی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک پتھر اٹھا کے
مار دیا بچھو کو۔ وہ بچھو باہر نکلا اور اس آدمی پہ حملہ آور ہوا۔ وہ آدمی
اپنی جان بچاتا ہوا بھاگا۔ قبرستان کے پاس نہر تھی۔ وہ نہر میں اتر گیا۔ وہاں
کوئی پل نہیں تھا۔ اس بچھو نے اسے نہر میں تیرتے دیکھا۔ بچھو نے اپنا ڈنک نہر
میں ڈال دیا۔ جیسے ہی ڈنک نہر میں پڑا اس آدمی کو فالج کا اٹیک ہوگیا جس میں
اس کی دونوں ٹانگیں مفلوج ہوگئیں۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے پانی میں بہت
طاقتور کرنٹ چھوڑ دیا ہو۔ دیہاتیوں نے یہ منظر دیکھا اور اسے پانی سے باہر
نکال لائے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کراچی کا ایک سچا واقعہ
یہ کراچی کا ایک سچا واقعہ ہے۔
سخت گرمی کے دن تھے۔
دوپہر کا وقت تھا۔ یہ شروع 2000ء کے
دور کا واقعہ تھا۔ لکی ون (شاپنگ مال) کے
سامنے ایک آدمی کی دکانیں تھیں۔
سی این جی فٹنگ اور سلنڈر کا کام ہوتا تھا۔
یہ تب کی بات تھی جب سی این جی کا
نیا نیا دور تھا۔ایک دن ایک بچہ (لڑکا) اس کے پاس آیا۔
وہ چلتے پھرتے جوس کے پیکٹ بیچ رہا تھا۔
اس کے ہاتھ میں جوس کے کچھ ڈبے تھے جو
ٹھنڈے تھے۔
جن میں سے باقاعدہ پانی کی پسیج نکل رہی تھی پانی ٹپک رہا تھا۔
اس آدمی نے اس کو اپنے دفتر کے اندر بلا لیا۔
بڑا خوبصورت سا لڑکا تھا۔ چھوٹی عمر کا تھا۔اس آد می نے
کہا
"آؤ بیٹا اندر آجاؤ دفتر میں کچھ دیر کو۔ باہر گرمی ہے بہت"۔
باتیں واتیں کیں اس سے، جوس بھی لے لیا۔
حتی کہ اس کی فوٹو بھی لے لی۔
اس زمانے میں ٹچ موبائل نہیں ہوا کرتے تھے، کی پیڈ کیمرے والے
تھے۔
البتہ میموری والے کیمرے ضرور آگئے تھے۔
وہ بہت تمیزدار بھی تھا۔ اس آدمی نے اس
سے کہا
"بیٹا آپ اتنے اچھے بچے ہو آپ پڑھتے لکھتے نہیں ہو؟"
اس نے کہا "نہیں۔۔۔ میں پڑھتا ہوں"۔ اس
نے بتایا کہ
"میں واٹر پمپ پہ میٹروپلیٹن اسکول میں پڑھتا تھا۔ لیکن اب کافی دنوں سے
جا نہیں رہا ہوں۔ میری فیس جمع نہیں ہوپا رہی ہے۔ اس وجہ سے میں یہ
کام کرتا ہوں (جوس بیچتا ہوں)"۔
اس آدمی نے خود سے دل میں سوچ لیا کہ چلو میں اس کی کچھ مدد کردوں۔
اسکول کا نام تو پوچھ لیا۔ کلاس اور سیکشن بھی پوچھ لیے۔ حتی کہ کیمپس بھی اس نے ٹھیک ٹھیک بتائے۔ اس کے بعد وہ بچہ چلا گیا۔ دو چار روز گزر گئے۔ وہ آدمی بھی
بھول بھال گیا۔ پھر وہ ایک دن لکی ون
(شاپنگ مال) کے قریب ہی جا رہا تھا۔ وہیں واٹرپمپ کے پاس اسکول تھا۔ اس نے
سوچا چلو اسکول چلے چلتے ہیں۔ اندر جاکر رسیپشنسٹ سے پوچھا کہ
"بھئی فلاں نام ہے بچے کا اس کی فیس جمع کروانی ہے۔۔۔"
تو اس نے انکار کردیا کہ
اس نام کا کوئی بچہ یہاں نہیں پڑھتا۔
اب وہ آدمی بڑا حیران ہوا کہ بچہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ تمیزدار بھی بہت تھا۔ جھوٹ بولنے والا تھا ہی نہیں۔
وہ آدمی بضد تھا۔ اس نے
رسپنشنسٹ کو کہا
کہ
"بھئی اچھی طرح چیک کریں۔ یہ حلیہ ہے بچے کا اور یہ نام ہے۔۔۔"
اس وقت پرنسپل صاحبہ
کلاسز کے دورے پہ تھیں۔ انہوں نے ان
دونوں کو بحث کرتے دیکھ لیا۔ انہوں نے اس
آدمی کو کہا کہ
"آپ میرے آفس میں آئیں"۔ وہ اس آدمی
کو اپنے آفس میں لے گئیں۔ اس آدمی نے انہیں کہا کہ
"مسئلہ یہ ہے کہ میں اس بچے کی فیس دینے کے لیے آیا ہوں۔ سنا تھا کہ وہ
اسکول نہیں آرہا تھا"۔
انہوں نے جواب دیا کہ
''آپ پہلے شخص نہیں ہو جو فیس دینے آئے ہو!!! دو چار اور لوگ بھی اسی
طرح آچکے ہیں۔۔۔ اس بچے کی ڈیتھ ہوچکی ہے اور کافی سال ہوچکے
ہیں۔۔۔''۔
یہ سن کر وہ آدمی شاک میں چلا گیا۔ اس کے پیروں سے زمین نکل گئی۔ اس نے
کہا پرنسپل صاحبہ کو کہ "میں نے اسے
فزیکل دیکھا ہے۔ اس کے ہاتھ میں
جوس کے ڈبےتھے جو بالکل
فریش تھے۔
ان میں سے باقاعدہ پانی کی پسیج نکل رہی تھی۔ میں نے اس سے ایک جوس کا ڈبہ بھی لے کے پیا تھا۔ مجھے یاد آیا میں نے اس
کی فوٹو تک لی تھی۔ میں آپ کو دکھاتا
ہوں اس کی فوٹو ۔ آپ کیسے اس بات سے
انکار کررہی ہیں"۔ پھر اس آدمی نے
اپنا کی پیڈ والا موبائل نکالا اور
پوری گیلری کھنگال لی ۔۔۔ جیسے ہی وہ
تصویر سامنے آئی تو وہ بالکل
بلیک۔۔۔ کالی۔۔۔ تھی۔ وہ تصویر اپنے آپ کالی ہوگئی اس کا تھمبنیل بلیک ہوگیا۔ یہ دیکھ کر وہ آدمی گھبرا کے اسکول سے بھاگ گیا۔ حتی کہ اس آدمی
نے اپنی بیوی کو وہ تصویر دو تین دن پہلے
دکھائی بھی تھی۔
دونوں میاں بیوی اس بچے کی تعریف کررہے تھے کہ یہ لڑکا کتنا خوبصورت
ہے۔
پرنسپل نے اس آدمی کو بتایا کہ
''اس بچے کی اسکول سے نکلتے ہی روڈ ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہوگئی تھی اور وہ
اکثر لوگوں کو نظر آتا ہے اور اپنی کہانی تک سناتا ہے، تو آپ جیسے کافی
لوگ یہاں آچکے ہیں''۔۔۔ اس آدمی کانام یاسر تھا۔
لکی ون شاپنگ مال کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا گلبرگ ٹاؤن میں ہے۔ اس کے پاس ہی واٹر پمپ کی کئی لوکیشن گوگل میپ پہ موجود ہیں اور ان کے سامنے ایک ہی روڈ پہ میٹروپولیٹن اسکول کی بہت سی برانچز ہیں۔ اس کے علاوہ میٹروپولیٹن کے نام سے کچھ اسکول اور بھی ہیں وہ واٹر پمپ اور لکی ون سے کچھ فاصلے پہ ہیں اور سب آپس میں قریب قریب ہی ہیں۔ کراچی میں اس وقت لکی ون صرف ایک ہی ہے۔
مُردہ بچے کا داخلہ
میرے تجزیے کے مطابق ممکن ہے کہ یہ حادثہ اندازاً
95ء تا 2000ء کے وقتوں میں ہوا
ہوگا کیونکہ جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا اس نے
2000ء سے 2005ء کے وقتوں میں سی این جی
فلنگ اور مرمت کا کام شروع کیا تھا۔ اس زمانے میں ٹچ اسکرین کیمروں والے
موبائل نہیں تھے۔ سادہ کی پیڈ والے موبائل آگئے تھے۔
ان میں بھی بیک کیمرہ ہوتا تھا۔
البتہ میموری والے کیمرے ضرور آگئے تھے۔
اس سے پہلے کیمروں میں ریل ڈلتی تھی۔
اب یہ ہمیں نہیں معلوم کہ اس آدمی کے ساتھ یہ واقعہ کس سن میں پیش آیا!!!
ہوسکتا ہے 2005ء تک پیش آیا
ہو۔۔۔
بچہ فوت ہوا اور اس کی
روح لوگوں کو نظر آتی ہے اور
وہ جوس بیچتی پھر رہی ہے تو
اب ذرا حالات کا جائزہ لیں کہ اس کے ماں باپ کو تو نہیں معلوم ناں کہ
ان کے بیٹے کی روح جوس بیچتی پھر رہی ہے۔ وہ تو گھر میں بیٹھے ہیں۔ انہیں کیا معلوم باہر کیا ہورہا ہے۔ اگر انہیں معلوم ہوجاتا تو
پتہ نہیں ان پہ کیا بیتتی!!! ان کا کیا ردِعمل ہوتا!!! کچھ کہا نہیں
جاسکتا۔۔۔وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اب ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے کوئی
رشتہ نہیں ہے وہ فوت ہوچکا ہے۔ ”جاؤ تم آزاد ہو۔ ہمارا تمہارا رشتہ ختم“۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ وہ لکی ون شاپنگ
مال کے پاس جا کر اس علاقے کا ازخود وزٹ کرتے اور اس کو دیکھنے کی کوشش
کرتے۔۔۔ شاید وہ ان کو نظر آ بھی جاتا۔۔۔
اگر وہ ان کو نظر آجاتا تو پھر ان کا کیا ردعمل ہوتا!!! ظاہر ہے والدین ہیں فطری طور پہ وہیں اس کی محبت میں رونا دھونا ہوجاتا اور وہ اس سے بات بھی کرنے کی کوشش کرتے۔ اس کو اپنے ساتھ گھر چلنے کی پیشکش کرتے۔ لیکن!!! جو اس دنیا سے چلا جاتا ہے اس کی رشتےداری ہر قسم کی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے اولاد اور والدین میں بھی کوئی فرق نہیں رہتا۔ جبکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا رشتہ ہوتا ہے۔ جس طرح اس کو اپنا نام، اسکول کا نام سب کچھ یاد تھا تو والدین کو کیوں نہ پہچانتا اور گھر کیوں نہ یاد ہوتا۔۔۔ عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ وہ انہیں دیکھ کر اپنا راستہ بدل سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ہرگز نہ جاتا۔ انہیں جواب دے سکتا ہے کہ اب میری آپ سے کوئی رشتےداری نہیں رہی۔ اس کو ماں باپ اور رشتےداری کی قید سے نجات مل گئی۔ اگر ماں باپ گھر لے بھی گئے تو وہ خود نہیں رہے گا۔ بند گھر سے رات و رات نکل جائے گا۔ ظاہر ہے ختم ہوچکا ہے وہ۔ اب کیا رہے گا گھر میں۔ اتنا بڑا حادثہ ہوا اس کے ساتھ۔ اگر آپ اس کو کہو کہ اپنے گھر چلے جاؤ تو لکھ کے رکھ لو کبھی نہیں جائے گا۔
میرے تجزیئے کے مطابق ان کو
جائے وقوعہ پہ جا کے دیکھنا چاہیے تھا۔ اس دکاندار سے بات کرنا چاہیے تھی۔ اس
لیے کہ ایسی روحوں کے لیے
فاتحہ خوانی کروائی جاتی ہے،
مفتیوں سے پوچھا جاتا ہے،
پڑھائیاں کی جاتی ہیں اور ساتھ میں
قبرستان جا کے قبر پہ
پھول پتیاں ڈالنی ہوتی ہیں۔ دراصل چھوٹا منہ اور بڑی بات ہوتی ہے۔ ہم کسی کو گناہ گار یا بدروح نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہ بھٹکی ہوئی روحیں ہوتی ہیں۔ مرنے کے بعد انسان کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ اسے سورتوں یا تعویزات عملیات سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جب زندہ ہوتا ہے تو غرور دکھاتا ہے۔ جس طرح واقعہ بیان کیا ہے کہ
وہ قبر سے نکل آیا ہے، تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ اس کو تو دوسری دنیا میں چلے جانا چاہیے تھا۔
بعض روحیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی وجہ سے دوسری دنیا میں نہیں جا پاتیں،
انہی کے لئیے پڑھائیاں کی جاتی
ہیں، خاص کر مسلمان۔ مرنے کے بعد اس قسم
کی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔ کہاں پہلے وہ اسکول میں پڑھتا تھا۔ آرام سے گھر میں رہتا تھا اور اب اسے جوس کے ڈبے بیچنے پڑ رہے ہیں۔ صاف معلوم ہورہا ہے کتنی مشکل میں ہے وہ۔ظاہر ہے جن کی اولاد تھی ان کو کیوں نہ فکر ہو، بیشک مرنے کے بعد بھی۔ بچہ بھٹک رہا ہے اور ماں باپ گھر میں ہیں۔ کتنے سالوں سے بھٹک رہا ہے اسے خود نہیں معلوم۔ وقت کتنا گزر چکا ہے۔
⋇ اس کیس میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں:-
☚ اس کو جوس کے ڈبے کہاں سے ملتے ہیں؟
☚ کیا جوس کے ڈبے دینے والوں کو بھی نہیں پتہ چل سکا کہ وہ مرا ہوا بچہ
ہے؟ وہ اسے جوس کے ڈبے دیے جارہے ہیں۔ پتہ نہیں کتنے عرصے سے دے رہے ہیں۔۔۔ اس عرصے میں بچے کا قد کاٹھ اور جسمانی تبدیلی ہوئی ہی نہیں۔ جوس دینے والے نوٹس ہی نہیں لے رہے۔
☚ وہ جوس کے ڈبے دن دیہاڑے کس کے لیے بیچتا ہے؟
☚ وہ دن میں کیوں نظر آتا ہے؟
☚ وہ رات میں کہاں ہوتا ہے؟
☚ کیا وہ بچہ کبھی انسانی دنیا میں آجاتا ہے اور کبھی واپس اپنی روحانی
دنیا میں چلا جاتا ہے؟
⋇ یہ وہ سوالات ہیں جن کے کوئی جوابات نہیں ہیں کسی کے بھی پاس۔
یہ روحیں شام ہوتے ہی ادھر ادھر چلی جاتی ہیں اور لوگوں کی نظریں بچا
کے رات کے اندھیروں میں غائب ہوجاتی ہیں۔ ساری رات کبھی غائب اور کبھی
ظاہری حالت میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں۔
ان کو نیند نہیں آتی۔ ان کے کوئی
گھر ور نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے کون رکھے گا اب اُسے۔ گلیوں میں تنہا پھرتا رہتا ہے وہ۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اب اُسے۔ ظاہر ہے کون پوچھے گا!!! انہیں پھر کوئی نہیں پوچھتا۔ گھر واپسی کا راستہ تو بند ہوچکا۔
ان کے
ریڈار بہت
طاقتور ہوتے ہیں۔
کئی میل پہلے ہی انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارا کوئی
رشتےدار اس طرف آنے والا ہے تو
یہ ادھر ادھر ہوجاتی ہیں تاکہ ان کی نظر ان پہ نہ پڑے۔
یہ روحیں اپنے ماں باپ سمیت رشےداروں سے
اوجھل رہنا چاہتی ہیں اور ہمیشہ اوجھل
رہیں گی کیونکہ انہوں نے ساری زندگی تو ان کے سامنے گزاری ہوتی ہے۔
اس طرح سے رشتےدار کا گزر جب وہاں سے ہوتا ہے تو وہ اپنی دھن میں آتا
ہے اور اپنی دھن میں نکل جاتا ہے۔
اس کو نہیں پتہ چلتا کہ اس کا فلاں مردہ رشتےدار کی روح وہاں ظاہری طور
پہ موجود ہے۔ اگر وہ رشتےداروں سے ملنا چاہتا ہے تو ان کے خوابوں میں رابطہ کرے گا۔ اگر آپ کا کوئی رشتےدار دنیا سے چلا جاتا ہے اور وہ آپ کو کسی بازار یا دوسرے شہر میں نظر آجاتا ہے اور آپ اس کے پاس چلے جاتے ہو یہ سوچ کر کہ وہ آپ کا رشتےدار ہے تو آپ بھی اس کے ساتھ دوسری دنیا میں چلے جاؤ گے۔ آپ بھی واپس نہیں آؤ گے۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کی قبر بنے گی یا نہیں۔ آپ بغیر تدفین کے بمع جسم اس مردے کے ساتھ چلے جاؤ گے۔ بصورت دیگر آپ اپنے رشتےداروں کو بتاؤ گے کہ آپ نے فلاں مردہ رشتہ دار کو فلاں جگہ دیکھا تھا۔ اگر بچہ واپس اپنے گھر ظاہری حالت میں چلا جائے تو والدین فطری طور پہ تو خوش ہونگے کہ بیٹا گھر واپس آگیا ہے۔ مگر چونکہ جان اللہ لیتا ہے اس لیے اس کا ظاہری حالت میں گھر جانا ٹھیک نہیں۔
عموماً جس کی جان مشکل طریقے یا تکلیف سے نکلتی ہے ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ان کی روحیں بھٹکتی پھرتی ہیں اور پریشان رہتی ہیں یا پھر ان کے دنیاوی مسائل حل نہیں ہوپاتے۔ انہیں بےچین روحیں بھی کہتے ہیں۔ اس بچے کے دنیاوی مسائل یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرتا تھا کہ اس کی ڈیتھ ہوگئی۔ اس کے ذہن میں یہ بات رہ گئی کہ اسکول جانا ہے اور فیس جمع نہیں ہوئی۔ اسکول کی پڑھائی ادھوری رہ گئی۔
جتنے بھی لوگ اسکول فیس جمع کرنے کے لیے گئے بچے کو پتہ چل گیا کہ بندہ اسکول آچکا ہے۔ جب یہ آدمی اسکول پہنچا تو بچے کو پتہ چلا، وہ اس کے موبائل سے اپنی تصویر بھی ساتھ لے گیا۔ اس نے سوچا تصویر نکال کے لے جاؤ کہیں پرنسپل صاحبہ نہ دیکھ لیں۔ اس کی وجہ نہیں معلوم۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ جاننے والوں کے سامنے نہیں جانا چاہتا۔ اس لیے کہ ہر وہ انسان جب مرجاتا ہے تو اپنے رشتےداروں اور جاننے والوں کے لیے ہی مرچکا ہوتا ہے۔ انہی کے لیے تو مرتا ہے۔ ان کے سامنے کیسے آئے گا؟؟؟ ہر بندہ یہی سوچ کے اسکول آتا تھا کہ بچہ پیارا ہے پڑھ لکھ جائے گا۔ چلو فیس جمع کروا آتے ہیں۔ اب لوگ تو ہمدردی میں جاتے تھے۔ ان کو تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ مرا ہوا بچہ ہے۔ اسکول پہنچنے پہ پتا چلتا تو خوفزدہ ہوکے بھاگ جاتے کہ روح سے ملاقات ہوگئی۔ ماں باپ دفن کرکے آرہے اور مرا مرایا بچہ سڑکوں پہ گھوم رہا۔ جس گاڑی سے اس کا حادثہ ہوا تھا اگر اس کے ڈرائیور کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ اس بچے کی روح لکی ون شاپنگ مال یا اس کے آس پاس گھومتی پھرتی ہے اور وہ انسانی روپ میں نظر آتا ہے۔ وہ جوس بیچتا پھرتا ہے۔۔۔ تو وہ بھی خوف زدہ ہوجائے گا۔۔۔ اور یہ بات اس کے لیے حیرانکن بھی ہوگی۔ اسے یقین نہیں آئے گا۔ اگر وہ اس آرٹیکل کو پڑھ رہا ہے اور اسے حادثہ یاد ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوچکے ہونگے۔ ظاہر ہے حادثہ اسے کیسے بھول سکتا ہے؟؟؟ جو لوگ پہلے بچے سے مل چکے تھے جنہوں نے تصویر نہیں اتاری تھی اسی لیے ان پہ زیادہ اثر نہیں ہوا۔ جس جس نے باقاعدہ اس کی تصویر اتاری اس پہ اس کا بہت برا اثر ہوا۔ اس کو زیادہ گھبراہٹ ہوئی۔ ظاہر ہے مرے ہوؤں کی تصویر کیسے اترتی؟ اتر بھی جاتی تو کتنے دن رہتی؟؟؟ اور کتنے دن اس کے موبائل میں رہی!!!۔ جب بھی لوگ اسکول جاتے تھے ہمدردی میں تو ان پہ جو بیتتی تھی یہ تو وہی جانتے تھے کیونکہ اسکول کے آرکائیوز ARCHIVES کہتے تھے کہ بچہ فوت ہو چکا ہے۔
اس کیس میں
پرنسپل صاحبہ کی غلطی
تھی کہ انہوں نے بچے کے والدین کو
فون پہ نہیں بتایا حالانکہ ان کا
فرض تھا کہ ان کے
نوٹس میں یہ کیس آتا۔ وہ بلاتیں
بچے کے والدین کو اسکول فون کرکے اور انہیں آگاہ کرتیں کہ "بھئی ہم لوگ بہت پریشان ہیں۔ یہاں کافی لوگ آچکے ہیں آپ کے بچے کی
شکایت لے کے اور ہر بندہ ایک ہی موضوع پہ بات کرتا ہے کہ فیس نہیں دی۔ ہمیں کافی پریشان کرکے رکھا ہوا ہے اس نے"۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اس کے والدین کو اس جگہ لے جاکر وزٹ
کروایا جاتا جہاں وہ جوس بیچتا پھرتا ہے۔ تاکہ وہ اس کی قبر پہ جا کے
فاتحہ خوانی کرتے اور پھول پتیاں ڈالتے۔ شاید اس سے کچھ فرق
پڑجاتا۔ کیونکہ مرے ہوؤں کو بخشوایا جاتا ہے۔ ان کے لیے خاص دعا کی جاتی ہے۔ ایصالِ ثواب کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اگر پرنسپل صاحبہ نے والدین کو بتایا تھا تو پھر والدین کی غلطی ہے۔ انہوں نے نوٹس نہیں لیا۔ اس معاملے کو ایزی لیا۔ اگر وہ کسی کا نقصان کردے تو کون ذمہ دار ہوگا؟؟؟ کہیں کسی دکان میں آگ واگ ہی نہ لگا دے۔ کیونکہ یہ بڑی طاقتیں ہوتی ہیں۔ ان سے آپ لڑ نہیں سکتے۔ ظاہر ہے اس کو کیسے روکیں گے!!! اس کو آپ روک تو نہیں سکتے۔۔۔ بہرحال اس کیس میں پرنسپل صاحبہ ذمہ دار نظر آتی ہیں اگر انہوں نے والدین کو نہیں بتایا۔
⋇ روحانی طور پہ یہ کیس بہت پیچیدہ ہے۔ یہ کافی پرانا کیس ہے۔ مزید سوالات یہ بھی پیدا ہوتے ہیں:-
☚ اب واللہ عالم بچہ کہاں ہے؟
☚ کن علاقوں میں جوس بیچتا پھرتا ہوگا؟
☚ کیا یہ معاملہ آج بھی چل رہا ہے؟
⋇کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
یہ معاملہ آج بھی چل رہا ہے تو اسکول والوں کو تو لازمی معلوم ہوگا۔ کیونکہ وہاں یہ کیسز آرہے ہونگے۔ لیکن یہ بھی تو سوچنے کی بات ہے کہ اب اس واقعہ کو 20-25 سال کے قریب کا عرصہ گزر چکا تو کیا وہ بچہ آج بھی یہی کام کررہا ہوگا؟؟؟ اتنے سالوں میں تو اسکولوں کے پرنسپل بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے جب تک پرنسپل صاحبہ کام کرتی رہیں تب تک اس بچے نے لوگوں کو فیس جمع کروانے کے لیے اسکول بھیجا۔ جب نئی پرنسپل صاحبہ یا صاحب آگئے تو لوگوں کو اسکول بھیجنے کا سلسلہ رک گیا ہو۔ کیونکہ بچہ اپنے وقت کے پرنسپل کو تو جانتا تھا۔ دراصل وہ لوگوں کو بھیجتا نہیں تھا اسکول، لوگ تو خود سے ہمدردی میں چلے جاتے تھے۔ ایسے کیسز کی اگر روحانی طریقے سے روک تھام نہ کی جائے تو حالات سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ اس کیس میں حالات کی یہ سنگینی ہے کہ اگر بچے کی خبریں اسکول میں مشہور ہوجاتی یا بچوں کو پتا چل جاتا تو وہ خوفزدہ ہو کے اسکول چھوڑ سکتے ہیں۔ اسکول بند بھی ہوسکتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ بچہ یا اس کی روح حقیقت میں اسکول پہنچ جاتی۔ وہ وہاں بھی لوگوں کو نظر آتا اور اسٹاف خوفزدہ ہو کے نکل جاتا۔
اس قسم کے روحانی معاملاتطویل عرصے بھی چلتے رہتے ہیں اور
صدیوں سے جاری ہیں۔کارساز روڈ کراچی اور شمشان گھاٹ حیدرآباد کی کہانی بھی بہت پرانی ہے صدیوں
پرانی۔ حیدرآباد شمشان گھاٹ میں بھی تو بچے کھیلتے ہیں۔ ایک نہیں دو دو۔ ان کا بھی ٹھیک سے انتم سنسکار نہیں ہوسکا ہوگا تبھی گھاٹ کے اندر بھٹکتے پھرتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کتنی صدیوں سے بھٹک رہے ہیں۔ اس بچے والے کیس میں وہ علاقہ بدل سکتا ہے۔ جہاں ایسی روحیں انسانی روپ میں پھرتی ہیں وہاں ان کے ساتھ کی دیگر اور بھی روحیں ہوتی ہیں۔کراچی میں ایسے واقعات لاہور کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ میرے علم کے مطابق یہ بچہ لاہور میں ENTER نہیں ہوسکتا۔ بزرگان دین کی کرامات و برکات کی وجہ سے اس بچے کا وہاں داخلہ ممنوع ہوسکتا ہے۔ بزرگان کی کرامات اسے وہاں داخل ہونے نہیں دیں گی۔ عموماً یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ جو جس جگہ یا شہر میں مرتا ہے اس کی روح وہیں رہتی ہے خاص کر گناہ گار روحیں یعنی بدروحیں۔ لاہور میں بزرگان دین کی کرامات اور برکات ہیں۔ ویسے تو ملتان میں بھی تعویزات پیری فقیری اور گندے عملیات بہت شدت سے ہوتے ہیں لیکن اسی مناسبت سے وہاں بزرگان دین کے مزارات بھی بہت ہیں۔ اگر کوئی گندے عمل کرتا ہے تو اس کا مثبت طریقے سے توڑ کرنے والے بھی موجود ہیں۔ اس بچے کا برزخ میں جانے والا راستہ کسی وجہ سے بند ہے یا رکا ہوا ہے۔ گناہ گاروں کے راستے تاریک ہوتے ہیں۔ ان کا برزخ بھی بہت برا ہوتا ہے۔ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ بچے کا برزخ ٹھیک نہیں۔ اس کا راستہ تاریک نظر آرہا ہے اسی لیے بھٹک رہا ہے۔ اسے راستہ نہیں مل رہا ہے۔ یہ بالکل ہوسکتا ہے کہ اللہ نے اس بچے کو سزا ہی دی ہو۔ اس کا سزا کے طور پہ حادثہ ہی کیا ہو۔ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کا باپ ٹھیک آدمی نہ ہو۔ اس کو سزا ہی یہ دی ہو کہ چل بیٹا تُو اب جوس کے ڈبے بیچ اور ان سے پیسے کما!!! اور وہ پیسے اللہ کے فرشتوں کے منہ پہ مار دے، کیونکہ مرنے کے بعد کون کس کے لیے پیسے کماتا؟؟؟ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دنیا اس کے لیے برزخ کا پہلا در ہو۔ ممکن ہے بچہ نیک ہو۔ کیونکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پہلا در صرف ان کے لیے ہی ہوتا ہے جو نیک لوگ ہوتے ہیں۔ بہرحال،سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ وہ جوس کے ڈبے کس کے لیے بیچتا ہے؟؟؟حادثات میں مرنے والے گناہ گار ہوتے ہیں۔حادثاتی موت سے پناہ مانگنی چاہیے۔
جب ایک انسان مرجاتا ہے تو آپ کا رشتہ اس سے ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر آپ کو نہیں پتا کہ اس پہ کیا بیت رہی ہے۔ آپ نہیں جانتے۔ آپ بازار جاتے ہیں وہاں بےشمار لوگ نظر آتے ہیں۔ کتنے ہی ان میں سے جنات ہوتے ہونگے اور کتنی ہی مردہ انسانوں کی روحیں ہوتی ہونگی آپ کو نہیں معلوم۔ جنات بھی یہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جو آپ کرتے ہو۔ مثلاً موبائل انٹرنیٹ وغیرہ۔ اگر آپ کسی دکاندار کوجانتے ہو۔ وہ آپ کو کہتا ہے کہ آپ کا فلاں رشتےدار ابھی ابھی ہماری دکان سے چیز لے کے گیا ہے۔ اگر وہ فوت ہوچکا ہے تو آپ حیران ہوگے۔ اس کو کہو گے کہ اس کو تو عرصہ ہوا فوت ہوچکا کوئی اور ہوگا۔ حقیقت میں آپ کو مُردوں کے راز نہیں معلوم۔ ہم نے بھی آپ کو یہ بات صرف تجربے کی بنا پہ کہی ہے۔
ہوسکتا ہے بچے کو حادثہ یاد ہی نہ ہو۔ اس کو صرف یہ یاد تھا کہ وہ اسکول جاتا تھا، اسی لیے ہر ایک کو یہی کہتا تھا کہ میں اسکول جاتا ہوں۔ فیس نہیں دی اس لیے اب نہیں جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر لوگوں کو پریشان کرنے کےلیے ایسا بولتا ہو یا ڈرانے کے لیے ایسا بولتا ہو تاکہ لوگوں کو یقین آسکے کہ روح کیا چیز ہوتی ہے یا یہ کہ لوگوں کو احساس دلانے کے لیے ایسا بولتا ہو تاکہ لوگوں کو یہ یقین آجائے کہ وہ کون ہے اور کس دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔ لوگوں کو اس کی اہمیت کا پتا چل جائے!!!عموماً مرنے والا یہ کبھی بھول نہیں سکتا کہ وہ کیسے مرا تھا۔ اگر بچہ سب کو سچ سچ بولتا کہ میں پہلے اسکول جاتا تھا۔ پھر حادثے میں ڈیتھ ہوگئی۔ اب میں اس دنیا میں نہیں ہوں اس لیے اسکول نہیں جاتا، تو پھر کون یقین کرتا!!! سب ہنستے کہ بچہ سامنے ظاہری طور پہ نظر آرہا ہے۔ ہم کیسے یقین کرلیں کہ تم اس دنیا میں نہیں ہو۔ اگر ایسا ہوجاتا کہ کوئی شخص اسے زبردستی اٹھا کے اسکول لے جاتا۔ پرنسپل کے سامنے پیش کردیتا تو وہ بےہوش ہوجاتیں کہ مرا ہوا بچہ ان کے سامنے کیسے آگیا!!! ٹھیک اسی طرح ایسا ہوجاتا کہ کوئی اس سے گھر کا پتہ پوچھ کے زبردستی گھر لے جاتا تو ماں باپ بھی شاید بےہوش ہو جاتے۔ ظاہر ہے تدفین کرکے آرہے ہیں وہ اس کی۔ وہ تو ڈریں گے کہ بچہ گھر کیسے آگیا!!!
بڑی طاقت کے عامل ایسی روحوں کو قابو کرسکتے ہیں یا ان کے راستے بدل سکتے ہیں۔ وہ اپنے جنات سے ان سوالات کے جوابات حاصل کرسکتے ہیں لیکن جنات کے ذریعے قابو یا راستہ نہیں بدل سکتے۔ صرف اونچی منزل تک پہنچا ہوا عامل ہی قابو یا راستہ بدل سکتا ہے۔ کہنے کو تو وہ صرف بچہ ہے، بچے کی روح ہے لیکن میرے علم کے مطابق وہ بہت بھاری طاقت ہے۔ اسی لیے نظر آتا ہے۔ ایسی روحیں جو بھٹکتی پھرتی ہیں سڑکوں پہ وہ عاملوں سے ڈرتی ہیں۔ انہیں عاملوں کو دیکھتے ہی سانپ سونگھ جاتا ہے اور وہ گھبرا جاتی ہیں۔ گھبرا کے ادھر ادھر ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ کہیں عامل انہیں قابو نہ کرلے یا اس کا راستہ نہ بدل دے۔ اگر کوئی عامل اس بچے کو تعویزات کی دھمکی دے کر پکڑ کے گھر لے جائے تو پھر وہ بےبس ہوجائے گا۔ اس کو جانا ہی پڑے گا ورنہ وہ مار کھائے گا۔ ایسی روحیں اپنے جیسی دوسری روحوں کو بھی دیکھتے ہی پہچان لیتی ہیں کہ فلاں آدمی جومیرے سامنے کھڑا انسانی روپ میں نظر آرہا ہے وہ بھی اس دنیا میں نہیں ہے۔ اگر ان کے درجات ایک ہی ہیں تو وہ پھر اس کے ساتھ گھومنے پھرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اگر اس زمانے کی پرنسپل صاحبہ اور بچے کے والدین اس آرٹیکل کو پڑھ رہے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے رابطے کرنے چاہئیں۔ والدین کے لیے تو یہ مشورہ ہے کہ وہ کارپوریشن کے دفتر سے رجوع کریں اور اس اسکول کا ریکارڈ نکلوائیں تاکہ پرنسپل صاحبہ سے رابطہ کیا جاسکے کہ واقعات کیا کیا ہوئے تھے۔۔۔ پرنسپل صاحبہ اگر ریٹائر ہوگئیں ہیں تو ان کو پنشن تو لازمی ملتی ہوگی۔ کارپوریشن کے پاس ان کا کوئی رابطہ نمبر تو ضرور ہوگا۔ میٹروپولیٹن اسکول کاروپوریشن کے ہوتے ہیں۔
میں ہمیشہ یوٹیوب کے پروگرام صرف
15 منٹ تک کے دیکھتا ہوں۔ کبھی کوئی
فلم تک آن لائن نہیں دیکھی۔
15 منٹ سے بڑے پروگرام ہمیشہ
ہارڈ ڈسک
میں ڈاؤنلوڈ کرکے دیکھے ہیں۔
یہ پروگرام ایک گھنٹے کا تھا۔
میں نے اسے بک مارک کرلیا۔ پھر
10 منٹ کے بعد بک مارک سے ختم کیا
کہ پروگرام کافی بڑا ہے۔ بہرحال
پروگرام دیکھتا رہا۔ پھر 20 منٹ تک
پروگرام چلا دوبارہ بک مارک کرلیا۔
یہ بک مارک بھی تین چار دفعہ کیا درمیان میں۔میں پورا پروگرام دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔ سوچا تھا تھوڑا سا دیکھ کے
چھوڑ دوں گا۔۔۔
لیکن کسی طاقت نے میرے ذہن میں بات ڈالی کہ یہ پروگرام پورا دیکھنا ہے
اور میں نے پتہ نہیں کیسے اتنا بڑا ایک گھنٹے کا پورا پروگرام دیکھ لیا
زندگی میں پہلی بار۔
۔۔۔ اور جب سب سے آخری واقعہ کی
باری آئی تو اس میں بچے کا قصہ بیان
کیا گیا تھا۔ جب یہ واقعہ سننا شروع کیا تو میرے
رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
ہاتھوں کے بال کھڑے ہوگئے تھے۔
اس کا اللہ گواہ ہے۔
اس پروگرام کو دیکھنے کے بعد تین چار دن مجھے بہت ڈپریشن رہا۔
میں نے گوگل میپ سے دیکھا لکی ون شاپنگ مال، واٹر پمپ اور میٹروپولیٹن
اسکول تینوں تقریباً قریب قریب ہی ہیں۔ میٹروپولیٹن اسکولوں کی تو کافی
برانچیں وہاں ہیں واٹر پمپ کے آس
پاس۔ واٹر پمپ کے نام بھی جگہ جگہ لکھے نظر آتے ہیں۔ ان جگہوں کو تلاش
کرنے کے لیے آپ کو الگ الگ لکھنا پڑے گا "میٹروپولیٹن اسکول واٹر پمپ" یہ
لکھ کے پہلے اس کو سرچ کرلیں۔ پھر "لکی ون" یہ لکھ کے سرچ کریں الگ سے۔
اسی طرح "واٹر پمپ" لکھ کر سرچ کریں۔۔۔ بچہ اپنے اسکول کا نام، برانچ اور
کیمپس مکمل بتاتا تھا تبھی لوگ اسکول پہنچتے تھے۔۔۔
اس لنک پہ کہانی موجود ہے۔ یہ پورا ایک گھنٹے کا پروگرام ہے۔ یہ واقعہ
پروگرام میں سنانے والوں کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں جس انداز کے ساتھ واقعات بیان کیے ہیں اس کے مطابق یہ پروگرام 90 فیصد درست لگتا ہے۔
اسی طرح کراچی کے علاقے محمودآباد میں ایک جگہ ہے جس کو محمودآباد کارپوریشن گیٹ بولا جاتا ہے۔ وہاں ایک آدمی کا مرڈر ہوا تھا یا اس نے خودکشی کرلی تھی۔ کہتے ہیں کہ بہت لوگوں نےاس کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا ہے اور کبھی کبھی لوگوں نے وہاں ایک گاڑی کو بغیر کسی ڈرائیور کے گھومتے دیکھا ہے۔ اب یہ کس حد تک درست ہے یہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ بات شاید 80ء کی دہائی کی ہوگی۔ اس کا مطلب روحوں کی دنیا کا ایک ایسا گیٹ وے ضرور ہے جہاں سے یہ ہماری دنیا میں آنا جانا کرلیتی ہیں۔
کراچی کے علاقے شادمان میں ایک گھر ہے جس کو پراپرٹی ڈیلروں نے بہت دفعہ بیچا۔ انہوں نے خوب حرام کمایا۔ گھر بیچتے تھے۔ لوگ رہنے جاتے تھے۔ انہیں جنات تنگ کرتے تھے۔ صرف 5۔6 ماہ میں گھر بیچ بیچ کے بھاگ جاتے تھے۔ ڈیلر حضرات لوگوں کو بتاتے ہی نہیں تھے کہ گھر میں جنات ہیں۔ گھر بیچ کے فوراً بھاگ جاتے تھے۔ بات ہی نہیں کرتے تھے۔
ڈیلروں نے ایک فیملی کو بیچا۔ ان کو بھی نہیں پتا تھا۔ جب وہ رہنے گئے تو جنات ان کے سامنے انسانی روپ میں آنے لگے۔ ایک دفعہ ایک عورت کچن میں کھانا پکا رہی تھی۔ بیٹی کی امی کی شکل میں تھی۔ بیٹی نے ان کو آوازیں دیں لیکن اس نے جواب نہیں دیا۔ پھر ساتھ والے کمرے سے اس کی امی آئیں۔ جیسے ہی وہ آئیں کچن والی عورت غائب ہوگئی۔
ان کے گھر کے صحن میں ایک کھجور کا درخت لگا تھا۔ اس کی شاخوں پہ کسی عورت کو بیٹھے دیکھا۔ ان کے چھوٹے بیٹے کی شکل میں جنات گھر میں پھرتے تھے۔ بچے کے ساتھ کھلونوں سے کھیلتے تھے۔ جب یہ واقعات بڑھ گئے تو انہوں نے ڈیلروں سے شکایات کیں کہ آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں تھا کہ اس گھر میں جنات کا بسیرا ہے؟ جب گھر بک چکا تو پھر کون سنتا۔ ان کا سارا پیسہ وہاں برباد ہوا۔
وہاں وہ کیا ہے کی سجاد سلیم کی ٹیم بھی جا چکی تھی۔ 5 مرلے کا گھر تھا وہ، 120 گز کا۔
گھر میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک کو ان کے ابو نے جب کھول کے دیکھا تو بےتحاشہ صدیوں پرانا گندا پانی بھرا تھا۔ ان کے ابو کو تو ویسے ہی OCD کی بیماری تھی۔ ان کا تو بی پی ہائی ہوگیا۔ رات کے 9 بجے کھول کے دیکھا تھا تو اس وقت صفائی والا بھی نہیں مل سکتا تھا۔ جیسے تیسے رات گزاری صبح صفائی کی۔
فیملی والوں نے اس گھر میں کسی مولوی کو بلایا قریب کی مسجد سے تو انہوں نے بولا کہ یہاں نہایت ہی غلیظ ترین ہندو جنات ہیں گندگی والے۔ اس گھر کو چھوڑ دو۔ یہ نہیں رہنے دیں گے۔ زبردست گندگی ہے۔
پھر اس فیملی نے قریب ہی ایک اور گھر خرید لیا تب کہیں جاکے انہیں سکون ملا۔ انہوں نے ڈیلروں سے بات کی گھر بیچنے کی لیکن وہ گھر پھر کبھی نہیں بک سکا۔ آج تک خالی پڑا ہے کئی سال ہوگئے۔ اس سے پہلے کئی فیملیاں وہاں رہ چکی ہیں اور گھر بیچ چکی ہیں۔ ان کی باری میں محلے میں بہت مشہور ہوگیا تھا کہ اس گھر میں گندے جنات رہتے ہیں اس لیے گھر نہیں بک سکا۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
جنات کے واقعات
کراچی میں ملیر اسٹیشن کے آس پاس بھی کچھ ایسے ہی لڑکے دیکھے گئے ہیں جن کے پیر جانور کے کھروں کی طرح ہوتے ہیں۔ رفعہ عین جاتے ہوئے ریلوے پھاٹک کے آس پاس بھی کچھ ایسے ہی لڑکے پھرتے نظر آئے ہیں لوگوں کو جن کے پیر بالکل جانوروں کے کھروں کی طرح ہوتے ہیں۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ لڑکے غائب ہوجاتے ہیں۔ ملیر کے علاقے کا ایک قبرستان بھی آسیبی ہے۔
ایک واقعہ:
سپریم کیسل یوپی کا ایک اپارٹمنٹ ہے۔ اس کی چھت پہ ایک بچہ پانی کی ٹینکی پہ گیند مارتا ہے۔ سنا ہے کہ اس کا قد کاٹھ نہیں بڑھتا۔ 25 سال سے نہیں بڑھا۔ نہ قد کاٹھ بڑھتا ہے نہ ہی جسامت میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ یہ کارروائی آدھی رات کو ہوتی ہے اور فجر تک جاری رہتی ہے۔ کسی کے اندر بھی آج تک ہمت نہیں ہوئی کہ وہ فلیٹ کی چھت پہ جا کے دیکھے کہ وہ بچہ کون ہے؟ یہ 2009ء کا واقعہ تھا۔ وہ بچہ 2017ء تک آج بھی موجود ہے۔ وہ ٹینکی پہ بال مارتا ہے۔ ایک ٹپہ پڑ کے بال اس کے ہاتھ میں جاتی ہے۔ ہمسائے کے فلیٹوں سے لوگ اسے دیکھ کر آوازیں دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہی نہیں ہے کسی کی طرف۔ وہ کھیلتا رہتا ہے۔ وہ اتنے کا اتنا ہی ہے۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
~~~~~~~~~~~~
ہمارے محلے دار کے ساتھ ایک عجیب واقعہ
لاہور میں ہمارے گھر کے قریب ایک بستی ہے ''بستی سیدن شاہ'' جوعیسائیوںکی بستی ہے۔ یہاں عیسائیوں کا ایکگورا قبرستانبھی ہے جو وہیں کے ایکگندے نالےکے پاس ہے۔ ہمارے ایکمحلےدارکی دکان تھی بالکل اس کے پاس۔ اس محلےدار کو بھی ہم اچھی طرح جانتے ہیں یہ
لوگ ہمارے گھر کے پاس ہی ایک گلی میں رہتے ہیں۔ یہ لوگ گاڑیوں کے آٹو پارٹس
کا کام کرتے ہیں،آج بھی۔ان کی دکان کے علاقے میں ایکواقعہرونما ہونے لگا تھا۔ یہ شاید2010ءکے آس پاس کی بات تھی۔
ہوتا یہ تھا کہ باقاعدگی سے روزانہ ایک انتہائیغلیظ بدبواس پورے علاقے میں پھیل جاتی تھی جس سےاہلِ علاقہتک اس سے پریشان تھا۔ یہ بدبو خاص طور سے عینعشاءکے وقت پر آتی تھی، بیٹھا تک نہیں جاتا تھا۔۔۔محلےدار نےایک پروگرام بنایا کہ کیوں نہ ہم کسیعاملکو بلائیں اور اس سے مشورہ لیں کہ یہ کیسی بدبو ہے جو روزانہ باقاعدگی سے
عین عشاء کے وقت پہ ہی آتی ہے، جس سے اہلِ علاقہ تک پریشان ہیں۔
انہوں نے ایکعاملسے رجوع کیا۔ اس نے عمل پڑھ کے صاف صاف بتا دیا کہمیرے علم کے مطابق یہاں ایک عیسائی عورت کی بدروح آتی ہے جو گورے قبرستان
سے آتی ہے اور اس کو کوئی جادوگر اپنے عملیات سے بلاتا ہے۔ شاید وہ کسی پہ
عملیات کرتا ہے۔یہ سن کر محلےدار نے کہا کہتم اس کو قابو کرکے لے جاؤ اپنے ساتھ بذریعہ عملیات۔ وہ عامل اتنا
طاقتورنہیںتھا کہبدروحکو قابو کرسکے۔ بس اس نے اسی لمحے عمل پڑھ کر اس کےراستے کو بدل دیا۔ راستے سے ڈائیورٹ کردیا۔ٹھیک اسی دن سے بدبو آنا بھی بالکل بند ہوگئی۔
ایکباتمجھے یاد آئی کہ یہ سن85ء 86ءکی بات ہوگی، ہم لوگ اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ ہمارے ابو بتایا کرتے تھے
کہاخباراتمیں یہ خبر اکثر آتی تھی کہ ایکسرکٹادیکھا گیا ہے جو لاہورطکے علاقےدھرمپورہ، میاں میر اور اس کے آس پاس گھومتا دیکھا گیا ہے۔یہ سرکٹا بھی اسیگورے قبرستانمیں دیکھا جاتا تھا اورآتا ہی یہیں سے تھا۔اہلِ علاقہ میں جو لوگزیادہ عمرکے ہونگے ان کو شایدیادبھی ہوگا۔ یہسائےکی مانند لوگوں نے دیکھا۔ یہ وہی قبرستان ہے جہاں سےعیسائی عورتکیبدروحآتی تھی، جس کا ذکر کیا ہے۔ یہ قبرستان بھی200سال پرانا ہے۔جہاں انگریزوں تک کی قبریں موجود ہیں۔