Showing posts with label 3rd) HAUNTED PLACES OF PAKISTAN - Shamshan Ghaat 1793. Show all posts
Showing posts with label 3rd) HAUNTED PLACES OF PAKISTAN - Shamshan Ghaat 1793. Show all posts

Thursday, 20 June 2024

3rd) HAUNTED PLACES OF PAKISTAN - Shamshan Ghaat, Hyderabad Sindh 1793:-

 





SHAMSHAN GHAT HYDERABAD SINDH LOCATION MAP 2015

SHAMSHAN GHAY HYDERABAD SINDH LOCATION MAP 2024 - 1
SHAMSHAN GHAY HYDERABAD SINDH LOCATION MAP 2024 - 2


شمشمان گھاٹ کا بچہ

ایکسپریس نیوز کی جانب سے تلاش کیا گیا بچہ شمشمان گھاٹ میں موجود ہے

HYDERABAD STATION HOT SUMMER





 انتم سنسکار کے لیے لوگ آئے ہوئے ہیں سن 2024ء کی فوٹو۔













شمشان گھاٹ میں موجود خطرناک جھاڑیاں














شمشان گھاٹ حیدرآباد سندھ، دن کے اوقات میں



3rd) HAUNTED PLACES OF PAKISTAN - Shamshan Ghaat, Hyderabad Sindh 1793:-


This place is on the top of the list in graveyards. This place is about more than 200 years old (since year 1793) and Hindus’ burning and burial ritual are performed here. As per guards and other staff claim that they have seen small children coming to play and make noise after sunset. Guards never saw anyone coming from the gate because the boundary wall of this place is very high and the gate has also closed by them every night. The children just come from nowhere and disappear afterwards. That’s one creepiest thing...

Shamshan Ghaat or Crematory is in Hyderabad City, Sindh region of Pakistan, near Badin Chowk. Many claim that spirits who are dead but never reached their destination even after death. If you really want to experience some creepiest paranormal activity, then this place is on the top of the list in graveyards.

Shamshan Ghat (Crematorium) Hyderabad is one of the most hunted places of Pakistan. This place have many mysteries buried in it. Hindus perform their burning and burial rituals of dead in this place since more than 200 years ago from now 2017. It is thought that this place is haunted by the spirits who couldn’t leave the earth. Many years ago when the workers were doing their duty, all of a sudden strange voices from nowhere came and they got afraid. The voices were that much frightening that they left their job to save their life.

The story of a guard is also very famous. It is said that a new guard had just came on the duty and it was his first day. He was given night shift. While walking in Shamshan Ghat (Crematorium) he noticed that children were playing in it. The walls very high, door was locks and children of that area don’t play late night. He checked the lock of the door and run away because it was sure that they were ghost having fun.

Another guard have also witnessed a live child coming out of grave. The story don’t end here. After this the child started to grow up and turned into an old person.

A bride in red bridle dress has been seen by people and no one know in whose search she didn’t left earth. People have heard strange noises and someone weeping from different areas of it.

When the sun sets, mostly children appear and start playing. They keep playing till the sun rise. No one has seen them using the gates and the walls are too much high for children to jump. It is also thought that two children are brother. Children of ages are 7 and 10. This activity traced more in winter season specially from 12th to 17th of Moon Calendar. It is also said that whenever trying to catch these children, became ill or face an accident.

People interested in paranormal activities should definitely visit this place. Here in this cemetery, Hindus can't perform burning and burial rituals in the evening just after sunset, due to heavy paranormal activity.

Here in this cemetery burning and burial is impossible after 10 PM @ night. 

 







READ MORE @ HAUNTED PLACES OF PAKISTAN

HAUNTED PLACES IN NORTHERN SINDH

HAUNTED PLACES IN SOUTHERN SINDH

HAUNTED GRAVEYARDS OF PAKISTAN

ESA NAGRI GRAVEYARD OF KARACHI - SAD STORY

LAL KOTHI KARACHI

HAUNTED PLACES IN ISLAMABAD

HAUNTED HAVELIS OF PAKISTAN

HAUNTED PARKS OF PAKISTAN

SHAMSHAN GHAT IN LAHORE AND KARACHI



اردو میں تفصیلاً


شمشان گھاٹ حیدرآباد سندھ:۔

ایک تعارف:۔

۔ 200 سال سے زیادہ  قدیم قبرستان جہاں چوکیداروں کے مطابق مغرب سے فجر تک پراسرار قسم کے بچے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں بچوں کی بے شمار قبریں موجود ہیں۔ دو بچوں کا قصہ سنا ہے جو شاید بھائی ہیں۔ قبروں سے نکل آتے ہیں، روحیں ہیں۔ انکی ماں کے بارے میں بھی سننے میں آتا ہے کہ وہ وہاں نظر آتی ہے۔ یہ قبرستان تقریباً 1793ء میں قائم ہوا تھا۔ شمشان گھاٹ ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں ہندو مذہب کے ماننے والے مردوں کو دفناتے اور جلاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لاشوں کے جلنے کے بعد ہی انہیں مکتی ملتی ہے۔ حیدرآباد سندھ کا یہ ایک ایسا شمشان گھاٹ ہے جن کے مردوں کی روحوں کو آج تک مکتی نہیں ملی۔ کئی لوگوں نے اس شمشان گھاٹ میں روحوں کو اور جنات کو چلتے ہوئے دیکھا۔ آوازیں سنیں اور بہت سی عجیب و غریب حرکات رونما ہوتے دیکھیں۔ 



حیدرآباد سندھ کے شمشان گھاٹ کی مکمل کہانی 2008 میں حاصل کی گئی

 

سر سبز و شاداب باغات، لہلہاتی وادیوں اور ہوا کے جوش و سرمستی میں بہتے چشموں کے برعکس کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں موت کے خوفناک سائے ہمہ وقت اپنے پر پھیلائے رکھتے ہیں۔200 سالہ قدیم تاریخ رکھنے والا حیدرآبادسندھ (بدین چوک) کا یہ شمشان گھاٹ بھی ایسے ہی کچھ مقامات میں سے ایک ہے جہاں زندگی خود اپنے وجود کو موت کے حوالے کرکے انجان راہوں پر جا نکلتی ہے۔ چوکیدار نے بتایا کہ یہ دوسوسال پرانا شمشان گھاٹ اور قبرستان ہے۔ اس کو باؤنڈری لگے ہوئے(باؤنڈری وال بنے ہوئے) تیس پینتیس سال گزرے (یعنی 1974-75میں بنی تھی)۔ تو اس وقت یہ ہوا تھا کہ ایک عجب قسم کا وظ نکلا تھا، جس سے مزدوروں نے گھبرا کے اپنا سامان رکھ دیا اور کہا کہ" بھئی ہم کام نہیں کریں گے بیوی بچوں والے لوگ ہیں روزی کمانے آئے ہیں مرنے نہیں آئے"۔مزدور بولے "یہاں تو آوازیں آرہی ہیں ہمیں خوف لگ رہا ۔تو انکے ٹھیکیدار مٹھو بھائی نے دعا کرائی کہ' بھئی ہم تو آپ ہی کے لیے آئے ہیں (یعنی روحوں کے لیے ہی آئے ہیں)۔ یہ صحیح کرانے کے لیے (یعنی دیوار کی چنائی و مرمت) ۔ ۔۔۔ تمہارے لیے۔۔۔ اور یہ جو گند وغیرہ پڑی رہتی ہے۔۔۔ اسی لیے یہ تمہارا کرا رہے کام تاکہ کوئی گند اس طرف پھینکے وغیرہ نہیں' "۔  یہ بچے ان مزدوروں کو واپسی پر  پتھر مارتے تھے جب مغرب ہوتی تھی۔ کیونکہ بچے ظاہر ہی مغرب کے وقت ہوتے تھے۔ ہندو مت سے وابستہ اس قدیم شمشان گھاٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں متعدد مرتبہ ایک دلہن عروسی لباس میں گھومتی دیکھی گئی ہے۔ آخر کون ہے یہ پراسرار دلہن اور اس ویرانے میں کسے تلاش کرتی ہے۔ ایک راہگیر کے مطابق ''اکثر ایک چیز دیکھنے کے اندر آئی ہے کہ ایک دلہن بنی ہوئی عورت یہاں سے کچھ لوگوں نے گزرتے ہوئے دیکھی ہے، میں نے بھی دیکھی ہے اور ہم لوگ یہاں آتے ہوئے کافی ڈرتے ہیں''۔

شمشان گھاٹ کے رکھوالے کے مطابق یہاں اکثر کچھ بچے بھی کھیلتے ہوئے دیکھائی دیئے ہیں۔ جو کھیلتے کھیلتے کب اور کہاں غائب ہوجاتے ہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آخر قبرستا ن میں بچوں کی موجودگی کس بات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بچے مغرب کے وقت اچانک کہیں سے نمودار ہوتے ہیں اور صبح فجر کے وقت تک قبرستان میں کھیلتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ بچے رات کو بارہ بجے کے بعد نظر آئے۔ بچوں کا خاص طور سے نظر آنا زیادہ تر سردیوں کی راتوں اور خصوصاً چاند راتوں کی 12 سے 18 تک ہوتا ہے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کی 50-60 قبریں بھی ہیں۔ چوکیدار نے ایک مخصوص درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے آس پاس اکثر  بلکہ سب سے زیادہ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ یہاں بچوں کی قبریں زیادہ تعداد میں ہونے کی وجہ یہ ہےکہ ہندو برادری کسی بھی ذات سے تعلق  رکھنے والی 12 سال اور اس سے کم عمر بچے دفن کرتی  ہے۔  ان کو جلایا نہیں جاتا کیونکہ ان کو معصومیت کی  وجہ سے گناہوں سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے ڈراؤنا ترین قبرستان ہے۔ رکھوالے کے مطابق"شروع شروع میں جب یہ  (مزدور) یہاں آئے تھے (1974- 75 میں) تب انہوں نے دیکھا تھا کہ وہ بچے چھوٹے چھوٹے یہاں گھوم رہے۔ اس طرف (قبروں کی طرف اشارہ کرکے رکھوالے نے بتایا) بچے چھوٹے نظر آتے تھے تو ماں بھی اسی طرف کو غائب ہوجاتی تھی"۔  اس شمشان گھاٹ میں ٹھاکر ذات سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی قبریں بھی موجود ہیں۔ رکھوالے کے مطابق اس نے ایک مخصوص قبر سے ایک زندہ بچہ بھی نکلتا ہوا دیکھا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے اچانک ہی ایک بوڑھے شخص میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ "اچانک وہ (بچہ) وہاں قبروں کے بیچ میں کھڑا  رہ کے۔۔۔ پہلے چھوٹا تھا پھر بڑا ہوتا گیا۔۔۔ پھر خوف سے میں نے آواز لگائی ۔۔۔۔ چیخ نکل گئی۔۔۔ " یہ پاکستان کا واحد قبرستان ہے جہاں ہندوبرادری رات  10 بجے کے بعد نہ جلا سکتی ہے اور نہ دفن کرسکتی ہے۔ کیونکہ یہاں بچوں کی روحیں قبروں سے نکل آتی ہیں اور انکی آوازیں بھی گونجتی ہیں۔ علاقے کے لوگ اکثر خوف کا شکار رہتے ہیں۔  جب بھی ان بچوں کو پکڑے نے کوشش کی گئی ہے وہ بیمار ہوا ہے یا اس کو کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔

ایک نجی جناتی تحقیقاتی ٹیم "وہ کیا ہے" نے یہاں کا وزٹ کیا تھا جو ان کا پہلا وزٹ تھا۔ اس میں ان کی ٹیم کو شمشان  گھاٹ میں ایک بچہ بھی نظر آیا تھا۔ یہاں بچوں کی آوازیں بھی گونجتی ہیں راتوں میں۔ ان کی ٹیم کا ایک کیمرہ مین تھا جس کا نام احسن چنگیزی تھا۔ اُس پہ اُس بچے نے اٹیک کیا تھا اور وہ بچہ اس پہ چڑھ گیا تھا۔ پھر اس نے بڑی مشکل سے بچے کو اتارا۔ وہ مولویوں کے چکروں میں پھنس گیا تھا۔ اس ٹیم نے یہاں کے کل چار وزٹ کیئے تھے۔ پہلا 2008ء میں ہوا تھا جس  میں  بچہ نظر بھی آیا تھا اور اسکی آواز بھی گونجی تھی۔ اس وزٹ میں بجلی کے تاروں پہ زبردست فائر ہوا تھا اور پورا گھاٹ روشن ہوگیا تھا۔ پھر دوسرا 2009ء میں ہوا تھا۔ جس میں احسن چنگیزی نے جانے سے انکار کردیا تھا اور وضاحت کی تھی کہ وہ مولویوں کے چکروں میں پھنس کے بڑی مشکل سے نکلا تھا۔ اس کے بعد تیسرا وزٹ 2012ء میں ہوا تھا اور چوتھا 2015ء میں ہوا تھا۔ اس وزٹ میں وہ کیا ہے کی ٹیم کو آگ کے گولے اڑتے دکھائی دیئے تھے۔ شمشان گھاٹ میں چوکیداروں کو بھی رات کے وقت کسی کسی دن آگ کے گولے اڑتے دکھائی دئیے ہیں۔


یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اسی گلی میں جہاں یہ شمشان گھاٹ واقع ہے،  ایک دلہا اپنی ہی شادی کی رات غائب ہوگیا تھا۔ جس کے بارے میں مقامی اخبارات میں خبر بھی شایع ہوئی تھی۔ لوگ اسے تلاش کرتے رہے اور جب وہ ملا تو صبح ہوچکی تھی۔ شمشان گھاٹ کے چوکیدار صبح آئے تو گھاٹ اندر ہی پڑا ملا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اندر کیسے آیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔ یہ سن  1992-93ء کی بات تھی  شمشان گھاٹ کی انتظامیہ نے   ایک نیا چوکیدار رکھا تھا۔ اس کی رات کی پہلی ڈیوٹی تھی۔ اس نے دیکھا کہ دو بچے کہیں سے قبرستان میں گھس آئے ہیں۔ وہ سمجھا کہ تالا ٹھیک سے نہیں ڈالا گیا۔وہ دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ تالا تو اپنی جگہ ڈلا ہوا ہے اور دیواریں بہت اونچی ہیں، تو یہ بچے کہاں سے گھس آئے۔ یہ دیکھ کر کہ بچے قبرستان میں نہیں کھیلتے پارکوں میں تو کھیلتے ہیں اور پارک بھی رات دس بجے تک بند کردیے جاتے ہیں، وہ اپنی ڈیوٹی کی پہلی رات ہی خوفزدہ ہوکر وہاں سے بھاگ نکلا۔ 


میرے ساتھ سچ مچ کا واقعہ



یہ 1993ء کی بات تھی۔ ھم سندھ کے شہر کوٹری میں نانی کے گھر میں ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے۔ دوپہر کے 4 بج رہے تھے۔ وہیں ہمارے سامنے ہمای خالہ کا بیٹا سو رہا تھا۔

ہمارے سر میں اس وقت ہندو جنات بیٹھے تھے۔وہ ھمارے ایک رشتے دار جو جادوٹونا کرتے تھے ان کے جنات تھے۔ جنہوں نے ہمارے والدین کی شادی پہ تعویزات کیے تھے۔ وہی تعویزات جو ہماری کوٹھی میں سب سے پہلے ہوئے تھے۔ وہ مر گۓ مگر باز نہیں آئے۔ یہ انہی صاحب کے جنات تھے۔ وہ جنات کچھ دیر کو پوجا کرنے حیدرآباد کے شمشان گھاٹ چلے گئے۔ وہاں جب انہیں پتا چلا کہ حیدرآباد کے شمشان گھاٹ میں رات کو بچے کھیلتے ہیں اور ایک نہیں دو بچے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ چلو چل کے کاشف صاحب کو بتاتے ہیں۔ وہ گھر آ ئے اور دوبارہ ہمارے سر میں بیٹھ کے ہمارے ذہن میں باقاعدہ خیال ڈالا کہ حیدرآباد کا شمشان گھاٹ ہے اور رات کو بچے کھیلتے ہیں اور ایک نہیں دو بچے ہیں

۔۔۔ تو یہ بات ہمیں ایسے پتا چلی تھی۔ ورنہ ہمیں کیا معلوم تھا کہ حیدرآباد کا شمشان گھاٹ ہے اور رات کو بچے کھیلتے ہیں۔ اس وقت تو نہ نیٹ ہوتا تھا اور نہ ہی ٹی وی پہ ایسے پروگرام آتے تھے۔ ظاہر ہے ہمیں کس نے بتایا ہوگا۔۔۔ بس ہم سے یہ بہت بڑی غلطی ہوگئی کہ ہم نے گھر میں شور نہیں ڈالا۔ ہمیں شور ڈال دینا چاہیے تھا کہ حیدرآباد کا شمشان گھاٹ ہے اور رات کو بچے کھیلتے ہیں۔

اس وقت ہم وہاں نہیں گئے تھے اور نہ ہی پتہ تھا کہ شمشان گھاٹ حیدرآباد واقع کہاں ہے اور نہ ہی ہم نے گھر میں کسی کو بولا تھا اس بارے میں۔ بس یہی ایک غلطی ہوئی جس کا آج تک پچھتاوا ہے۔ ہم تو بھول چکے تھے یہ سب کچھ۔ یہ نیٹ پہ پروگرام ڈالا گیا ہے 2008ء میں ایکسپریس نیوز کا وہ کیا ہے؟ نے۔ ھم نے یہ پروگرام بھی 2016ء میں آٹھ سال بعد کہیں جا کے دیکھا تو ہمیں اچانک یاد آگیا کہ یہ بات تو ہمیں جنات نے الہام دی تھی 1993ء میں۔

ھم تو اپنی خالہ کے بیٹے کے ساتھ 2017ء میں گۓ تھے شمشان گھاٹ۔ وہاں پھر ایک غلطی کی کہ فوٹو یا وڈیو نہیں بنائی۔ یہ گھاٹ بدین بس اڈے کے پاس واقع ہے۔ وہاں سے بدین شہر کو راستہ نکلتا ہے۔ اس کو حیدرآباد کی مشہور شاہراہ آٹوبھان روڈ سے بھی راستہ جاتا ہے۔ دوسرا راستہ خواجہ غریب نواز روڈ جو ریلوے اسٹیشن حیدرآباد کے بالکل پاس سے نکلتی ہے۔ اس روڈ پہ اسٹیشن کے اوپر پل بنا ہے جس پہ گاڑیاں رواں دواں رہتی ہیں۔ یہ سڑک سیدھی بدین چوک پہ جا نکلتی ہے۔ وہیں دائیں طرف ہی ہندو آبادی ہے اور یہی ڈراؤنا شمشان گھاٹ موجود ہے جو پاکستان کے ڈراؤنے ترین قبرستان میں سب سے پہلے نمبر پہ ہے۔

حیدرآباد ریلوے اسٹیشن جس کو حیدرآباد جنکشن بھی بولتے ہیں یہ بھی پاکستان کے ڈراؤنے ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے اور یہ واقع ہے کچےاور پکے قلعے کے آس پاس۔ یہ دونوں قلعے بھی کافی حد تک آسیبی ہیں۔ ان قلعوں کا ایکسپریس نیوز کے پروگرام وہ کیا ہے؟ کی ٹیم نے بھی وزٹ کیا تھا۔

ہمیں شور یہ ڈالنا چاہیے تھا کہ ہمیں جنات نے الہام دیا ہے کہ شمشان گھاٹ میں رات کو بچے کھیلتے ہیں اور ایک نہیں دو بچے ہیں۔ ھم لاھور میں رہتے ہیں اور ننھیال سارا حیدرآباد، کوٹری شہر اور کراچی میں ہے۔


مالک: کاشف فاروق۔ لاہور سے۔