HAUNTED PLACES OF PAKISTAN - LAL KOTHI KARACHI SHAHRAH E FAISAL - LAL KOTHI MYSTERY - ROAD ACCIDENTS
لال کوٹھی شاہراہِ فیصل، کراچی
پی ای سی ایچ ایس، بلاک 6۔
لال کوٹھی سے وابستہ حادثات، داستانیں اور سچے واقعات
پہلی داستان:
لال کوٹھی والی اس بھٹکتی روح کی داستان کافی مشہور ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ رات گئے کوئی ٹیکسی ڈرائیور وہاں سے گزر رہا ہوتا ہے تو اسے روڈ کے کنارے فٹ پاتھ پر ایک ایسی لڑکی کھڑی نظر آتی کہ جس کی گردن سے خون بہہ رہا ہوتا۔ وہ لڑکی ٹیکسی والے کو روکتی ہے تو وہ فوراً رک جاتا ہے اور لڑکی کا خون بہتا دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ اس سے کہتا ہے "باجی آپ کو کہاں جانا ہے؟ اور یہ کیا ہوا ہے؟ آپ تو بہت زخمی ہیں۔ آپ کو کسی گاڑی نے مارا ہے؟" تو وہ کہتی ہے" نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں، تم بس مجھے جلدی سے میرے گھر پہنچا دو" ڈرائیور کہتا ہے "باجی آپ گھر نہیں جائیں آپ ہسپتال جائیں۔ آپ کی حالت ٹھیک نہیں ہے" وہ کہتی ہے "نہیں میں پہلے گھر جاؤں گی، پھر وہاں سے ہسپتال جاؤں گی"۔ مجبوراً ڈرائیور کہتا ہے "اچھا باجی بیٹھ جائیں" لڑکی خون ٹپکاتی ہوئی گاڑی کے اندر آکر بیٹھ جاتی ہے تو ڈرائیور اس سے پوچھتا ہے "آپ کو کہاں جانا ہے؟" وہ کہتی ہے "ناظم آباد" ڈرائیور بیچارا تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا اسے ناظم آباد لے جاتا ہے۔ لڑکی اسے ایک گلی میں لے جاتی ہے اور ایک گھر کے سامنے ٹیکسی رکوا لیتی ہے۔ پھر وہ ٹیکسی سے اترتے ہوئے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کرتی ہے اور اس گھر کا دروازہ بغیر کھٹکھٹائے ہاتھ کے دباؤ سے کھول کر اندر چلی جاتی ہے۔
اب ٹیکسی والا انتظار کر رہا ہے لیکن خاصی دیر گزرنے کے باوجود اس گھر سے کوئی باہر نہیں نکلتا۔ پریشان ہو کر ڈرائیور ٹیکسی سے اترتا ہے اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ 2 , 3 بار کھٹکھٹانے کے بعد آنکھوں میں نیند لیے ایک بوڑھا آدمی باہر آتا ہے اور ٹیکسی والے کو اچنبھے سے دیکھ کر کہتا ہے:
"کیا بات ہے بیٹا؟ کیوں آدھی رات کو دروازہ پیٹ رہے ہو؟"۔ ڈرائیور حیران ہو کر کہتا ہے:
"وہ بابا جی، ابھی ایک باجی میری ٹیکسی میں لال کوٹھی سے یہاں تک آئی ہیں اور گھر کے اندر گئی ہیں۔ وہ زخمی تھیں، ان کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔ ابھی تو انہوں نے مجھے کرایہ بھی نہیں دیا۔ کیا ان کو ہسپتال لے کر جانا ہے؟"۔ بوڑھا چونکتا ہے۔ چند لمحے اس ڈرائیور کی طرف خاموشی سے دیکھتا ہے، پھر کہتا ہے:
"بیٹا تم یہیں ٹھہرو، میں تمہیں ابھی کرایہ لاکر دیتا ہوں" وہ گھر کے اندر جا کر واپس آتا ہے اور ڈرائیور کو مطلوبہ رقم دے دیتا ہے۔ ڈرائیور کرایہ تو لے لیتا ہے لیکن اس کی تشویش ختم نہیں ہوتی۔ "بابا جی وہ باجی کدھر ہیں؟ ان کو ہسپتال لے کر نہیں جانا؟" بوڑھا افسردگی سے سر ہلاتا ہے اور کہتا ہے: "نہیں بیٹا تم جاؤ۔ اندر کوئی لڑکی نہیں ہے"۔ ڈرائیور حیرت سے اچھل پڑتا ہے۔
"کیا مطلب جی؟ ابھی 10 منٹ پہلے تو وہ باجی خون ٹپکاتے ہوئے آپ کے گھر میں گئی ہیں اور اب آپ کہتے ہیں اندر کوئی لڑکی نہیں ہے۔ وہ کدھر چلی گئیں؟"۔ "ہاں بیٹا آپ صحیح کہتے ہیں۔ اسی لیے تو آپ کو کرایہ دیا ہے۔ لیکن وہ لڑکی اب اس دنیا میں نہیں" ڈرائیور چونک کر ان کی طرف دیکھتا ہے۔ "وہ میری بیٹی ہے، لیکن اس کو مرے ہوئے تو اب زمانہ ہو گیا۔ وہ آج سے کئی سال پہلے لال کوٹھی کے پاس قتل ہو گئی تھی۔ لیکن اس کی روح وہاں اب تک بھٹک رہی ہے۔ ہر سال سردیوں کی ایک رات میں وہ کسی نہ کسی ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر تک آتی ہے اور یہاں پہنچ کر غائب ہو جاتی ہے۔ تم چھوڑو اس بات کو۔ تم اپنا کرایہ لو اور جاؤ۔" ڈرائیور بیچارے کی تو گھگھی بندھ جاتی ہے۔ وہ خوف سے لرزتا کانپتا سیدھا اپنے گھر کی طرف بھاگتا ہے اور اگلے کئی دن تک بخار میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جس سے کراچی کے اکثر قدیم باشندے واقف ہیں۔ اصل بات کیا ہے یہ کسی کو بھی نہیں معلوم۔ لال کوٹھی کی اس بھٹکتی روح پر کتابیں تک لکھی گئی ہیں اور اس پر بڑی داستان آرائیاں بھی کی گئی ہیں، لیکن جس شخص کے ساتھ خود حقیقت میں یہ واقعہ پیش آیا ہو، وہ عام طور پہ نہیں ملتا۔
دوسری داستان:
لال کوٹھی اور کارساز روڈ۔اصل واقعہ ۔ یہ داستان زیادہ سمجھ میں آتی ہے۔
لال کوٹھی شاہرہ فیصل پر واقع ہے۔یہ 1960-61 کی بات تھی۔ وہاں ایک عورت رہتی تھی اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ۔ کہتے ہیں کہ اس کا نام طاہرہ تھا۔ وہ ایک ڈانسر تھی۔ اس کی شادی ہورہی تھی۔ گھر میں بہت شور شرابا چہل پہل تھی۔ یہ لوگ تین دن اور دو راتوں کے جاگے ہوئے تھے۔ شادی کی رات یعنی رخصتی کی رات جب یہ اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ اسکے گھر یعنی اپنے سسرال روانہ ہو رہی تھی تو اس کے ڈرائیور کو اچانک اونگھ آگئی اور گاڑی ایک پول سے ٹکرا گئی۔ گاڑی میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔ اس کا شوہر آخری سانسیں لے رہاتھا ۔ یہ عورت گاڑی سے باہر نکلی اور لوگوں کی گزرنے والی کچھ گاڑیوں سے لفٹ مانگنے لگی کہ کوئی اسے ہسپتال پہنچا دے۔ لیکن کسی نے گاڑی نہ روکی۔ یہ نامراد واپس لوٹی تو دیکھا شوہر جو آخری سانسیں لے رہا تھا وہ ختم ہوچکا ہے تو یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی یہ بھی جہاں فانی سے کوچ کرگئی۔ یہ حادثہ کارساز روڈ پر پیش آیا تھا۔ جہاں سننے میں آتا ہے کہ ایک چھوٹا سا کوئی قبرستان بھی ہے۔ شاید اس کے سامنے۔ جسے عیسی نگری قبرستان کہتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ اس کو اسی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔
حادثے کے بعد کچھ عجیب عجیب واقعات پیش آنے لگے۔ اس کی روح نے رات کے دو بجے لوگوں سے لفٹ مانگنا شروع کردی۔ ہوتے ہوتے یہ خبر شہر میںجنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہونے یہ لگا کہ جب لوگ اس کو لفٹ دیتے تو یہ اپنا چہرہ بھیانک روپ میں بدل لیتی۔ اس طرح لوگوں کی گاڑیوں کے بہت سے حادثات ہونے لگے۔ یہ لوگوں سے ایسی زبان بولنے لگی جو کوئی نہیں جانتا تھا۔
پھر مزید کچھ عرصے بعد 1965-68 کے دوران ایسا بھی ہونے لگا کہ یہ لوگوں سے لفٹ مانگتی اور کامیابی کے ساتھ اپنے گھر لال کوٹھی پہنچ بھی جاتی اور جو اس کو لفٹ دیتا اس کو بولتی کہ تم ٹھہرو میں اوپر اپنے کمرے سے آتی ہوں۔ لیکن لوگوں کو وہاں ایک ایک گھنٹہ بھی گزرجاتا وہ واپس نہ آتی۔ تو لفٹ دینے والا گھر کی گھنٹی بجا کر یا دروازے نوک کرکے اس کے گھر والوں کو بلاتا اور کہتا کہ یہ جس کی تصوریر دیوار پر لگی ہے اس نے مجھ سے لفٹ لی ہے اور اپنے کمرے میں اوپر گئی ہے اور ابھی تک نہیں آتی ایک گھنٹہ ہوچکا۔ تو اس کے گھر والے یا بوڑھے ماں باپ اس لفٹ دینے والے سے کہتے ہیں کہ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اس عورت کو حادثے میں مرے ہوئے پانچ برس یا چھ برس یا سات برس ہوچکے اور آپ جیسے اور بھی چار پانچ افراد اس گھر میں اس کو لفٹ دے کر آچکے۔ یہ سن کر لفٹ دینے والا بہت حیران ہوتا اور واپس لوٹ جاتا۔ جب گھر والوں نے دیکھا کہ ایسے پراسرار واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے تو انہوں نے لال کوٹھی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ لال کوٹھی تقریباً 1968 سے خالی پڑی ہے۔
اس کی روح نے کارساز روڈ پر واقع کچھ پرانے ویران واٹر پمپس کو اپنا مسکن بھی بنا لیا ہے۔یہ اکثر وہاں سے لوگوں کو دھوکہ دے کر اپنے پاس بلاتی ہے اور پھر لوگوں کا کچھ پتا نہیں چلتا کہ وہ کہاں چلے گئے۔ یہ لفٹ مانگنے والے واقعات 1960 سے 1990 کی دہائی تک پیش آتے رہے۔حالانکہ اس زمانے میں کمپیوٹرز بھی ایسے نہیں تھے جبکہ پاکستان میں تو کمپیوٹرز 1985 میں آئے۔ نہ اس وقت ایسا ٹی وی میڈیا تھا جیسا آج 2018 میں ہے۔ پھر 1990 کی دہائی میں اس پر پی ٹی وی نے ایک ڈرامہ بھی بنایا تھا۔ اس ڈرامے کا ذکر ساحر لودھی نے اپنے ایک پروگرام جنات افسانہ یا حقیقت میں 2012 میں بھی کیا تھا۔ لیکن ساحر نے اس کا نام نہیں بتایا تھا۔اس کے بعدیعنی 1990 میں ہی عالم دین حضرات نے کارساز روڈ کا وہ حصہ جہاں سب سے زیادہ شکایات تھیں کو بڑے بڑے کیلوں سے کلوا دیا۔جس کے بعد یہ روح نظر آنا بند ہوگئی۔ لیکن 2000 کے بعد سڑک کے اطراف کچھ کھدائی کے کام ہوئے جس سے شاید وہ کیل اکھڑ گیا اور وہ روح پھر سامنے آگئی۔ جس کو ایک نیوز چینل جیو نیوز نے 2013 میں سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ سے دکھایا۔اس میں اس نے سرخ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔
نیٹ پر کچھ لوگوں نے بیشمار قصے وابستہ کرلیے ہیں کہ اس عورت نے ٹیکسی والے سے لفٹ لی تو اس نے اس کو قتل کردیا۔ یا ایک لڑکی شادی کرنے والی تھی تو لڑکا اس رات نہ پہنچا۔ تو اس نے خودکشی کرلی۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کسی نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی اور قتل کردیا تھا اس واٹر پمپ کے سامنے۔ یہ تمام قصے جتنی منہ اتنی باتیں ہیں۔
واقعات:
کراچی میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی گاڑی پر مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، ان کی اہلیہ سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔ اس جوڑے نے کچھ عرصہ قبل اپنی پسند سے شادی کی تھی جبکہ لڑکی کے اہل خانہ اس شادی کے مخالف تھے۔ ایس ایس پی شرقی رضا جسکانی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ وسیم اعجاز اپنی بیوی کوثر وسیم اور دیگر رشتے داروں کے ہمراہ گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ شاہراہ فیصل پر دوسری گاڑی میں سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روک کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں وسیم موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی بیوی کے بازو میں گولی لگی۔ واقعے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کی شناخت وسیم کے بھائی اعجاز نصیر اور ڈرائیور سید منیر کے نام سے ہوئی ہے اور انہیں علاج کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جناح ہسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ منیر کے سینے میں گولی لگی ہے جس کی وجہ سے ان کی حالت تشویشناک ہے جبکہ مقتول کے بھائی اور بیوی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ان کے مطابق مقتول کو آٹھ گولیاں ماری گئیں جن میں سے 7 سینے میں لگیں جبکہ ان کے بھائی کو پیر میں گولی لگی۔ ایس ایس پی کے مطابق گاڑی میں سفر کرنے والے یاسین نامی فرد کو معجزانہ طور پر واقعے میں ایک خراش تک نہ آئی۔ یاسین نے بتایا کہ لڑکی کے والدین نے 29 اگست 2021 کو وسیم کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں موقف اپنایا تھا کہ وسیم نے ان کی بیٹی کو اغوا کر لیا ہے۔
شادی شدہ جوڑا ایف آئی آر خارج کرانے کے لیے آج عدالت میں پیش ہوا تھا جہاں عینی شاہدین کے مطابق کوثر کے والدین، بھائی اور دیگر رشتے داروں نے اس سے ملاقات کی اور گھر واپس چلنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوثر نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ یاسین نے بتایا کہ وہ اسٹیل ٹاؤن کی جانب جا رہے تھے کہ لڑکی کے رشتے داروں نے ان کا پیچھا کیا اور شاہراہ فیصل پر لال کوٹھی کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ ایس ایس پی قمر جسکانی نے بتایا کہ واقعے میں بچ جانے والے شخص کے مطابق حملہ آوروں میں مبینہ طور پر لڑکی کے والد عزیز، بھائی عظیم اور کزن ناصر سمیت پانچ افراد ملوث ہیں۔ پولیس افسر کے مطابق کوثر اور مقتول وسیم کا تعلق لاڑکانہ سے ہے اور پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے۔
اس طرح کے قتل اور حادثات زیادہ تر کارساز روڈ یا شاہراہِ فیصل لاکوٹھی بس اسٹاپ پہ ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک گاڑی لال کوٹھی بس اسٹاپ کے بالکل سامنے بجلی کے ایک پول سے ٹکراگئی تھی۔ ٹکراتے ساتھ ہی اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ ٹھیک اسی طرح ایک رکشے کو بھی یہاں اپنے آپ بغیر کسی حادثے کے آگ لگ گئی تھی۔ یہ حادثہ بھی عین لال کوٹھی بس اسٹاپ کے سامنے پیش آیا تھا۔ اسی طرح کرکٹر وسیم اکرم کے گاڑی کے پیچھے کسی نامعلوم نے ٹکر ماردی تھی اور فائرنگ تک تھی۔ جس کا کوئی سراغ ہی نہ مل سکا۔
ایک واقعہ ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک خاتون گاڑی میں سوار تھی۔ اس کا شوہر بینک کے اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کے لیے گیا۔ وہاں بینک کا سیکورٹی گارڈ بھی تھا۔ اچانک کسی نامعلوم نے فائرنگ کردی۔ جس سے گاڑی میں سوار خاتون جاں بحق ہوگئی۔ جبکہ اس کے شوہر کو فائرنگ کی آواز تک نہیں سنائی دی۔ جب وہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوا کے باہر آیا تو دیکھا کہ گاڑی میں اس کی بیوی مردہ پڑی ہے۔ البتہ سیکورٹی گارڈ نے فائرنگ کے آواز سنی تھی۔
آن لائن نیوز کے مطابق: کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں شارع فیصل پر لال کوٹھی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا تھا کہ جب میں اے ٹی ایم سے واپس آیا تو بیوی کو گولی لگی ہوئی تھی،میری بیوی کے پاس قیمتی زیورات اور رقم موجود تھی۔بینک کے گارڈ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کی آواز نہیں آئی جس کے باعث مجھے پتہ نہیں لگا۔پولیس کا کہنا تھا کہ دونوں کی شادی سات ماہ پہلے ہوئی تھی،خاتون کو لگنے والی گولی کنپٹی سے پار ہو گئی تھی،فائرنگ کی جگہ سے 30 بور پستول کا خول بھی ملا ہے۔خاتون کے ورثاءکے بیان کے بعد تفتیش کو آگے بڑ ھایا جائے گا۔
ایک واقعہ ایسا بھی ہوا تھا کہ ایک گاڑی میں 6 دوست گھومنے پھرنے نکلے اور اسی لال کوٹھی بس اسٹاپ کے سامنے سے گزرے تو ان کو حادثہ پیش آگیا اور گاڑی کا انجن بری طرح اکھڑ کر باہر دور تک جاگرا۔ جب حادثات ہوتے ہیں تو کم از کم انجن اکھڑ کر اتنی دور تک نہیں پہنچتا۔ یہ بہت برا حادثہ ہوا تھا۔
کراچی: لال کوٹھی کے قریب عمارت سے گر کر 2 مزدور جاں بحق
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارت سے گر کر جاں بحق ہونے والے دونوں مزدوروں کی لاشیں جناح اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ پولیس نے لال کوٹھی پر عمارت سے دو مزدوروں کے گر کر جاں بحق ہونے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ موقع پر پہنچ گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزدوروں کی ہلاکت کا واقعہ زیر تعمیر عمارت میں کام کے دوران پیش آیا، واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مزدور لوہے کی پرانچ ٹوٹنے کے باعث گرے، لوہے کی پرانچ زنگ آلود ہے، نٹ بولٹ بھی زنگ آلود ہیں، مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات بھی نہیں کیے گئے تھے۔
ایڈمن: کاشف فاروق۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
do not copy or miss use
READ MORE @ HAUNTED PLACES OF PAKISTAN
HAUNTED PLACES IN NORTHERN SINDH
HAUNTED PLACES IN SOUTHERN SINDH
HAUNTED GRAVEYARDS OF PAKISTAN
CHEEL KOTHI:
IT WAS 3 AM IN THE MORNING..A YOUNG BOY NAMED MURAD WAS GOING HOME COMING FROM A FRIEND'S PARTY. HE WAS PASSING FROM THE KARSAZ ROAD TO BE MORE ACCURATE PRESENTLY HABIB ULLAH REHMAT ROAD. WHEN HE REACHED THE FRONT GATE OF THE NAVY ENGINEERING COLLEGE, HE SAW A GIRL STANDING ON THE PATH WAY(FOOT PATH)... THE CAR WAS MOVING FAST BUT STILL HE MANGED TO NOTICE THE BEAUTY OF THE GIRL AND FURTHEMORE SHE WAS HOLDING HER HAND FOR A LIFT. THE TIME WAS ODD AND MURAD WAS STUNNED BY BOLDNESS OF THE GIRL... HE STOPPED THE CAR AND ASK THE GIRL "WATS THE MATTER"... SHE TOLD HIM THAT SHE WANTS A RIDE HOME AND SHE'S COMING BACK FROM A HOSPITAL NEARBY LOOKING AFTER HER FATHER. AS THE BOY MURAD UDERSTOOD THE EMERGENCY GAVE HER THE LIFT... "WHERE DO U LIVE"?... ASKED MURAD... "PECHS" SHE REPLIED... MURAD TOOK THE GIRL TO HER HOME... IT WAS A BIG HOUSE IN PECHS AND AT THE TOP OF THE HOUSE... IN BOLD LETTERS IT WAS WRITTEN "CHEEL KOTHI".
THE GIRL TOLD MURAD THAT HER NAME IS ARZOO AND ASK HIM TO COME OUT OF THE CAR AND MEET HER MOTHER... IT WAS LATE BUT MURAD AGREED... WHEN THEY ENTER THE HOUSE, MURAD FELT SUDDEN COLDNESS... ARZOO TOOK HIM TO THE BIG ROOM ON THE GROUND FLOOR AND TOLD MURAD THAT SHE WILL BE BACK IN A MINUTE... JUST WAIT...
MURAD WAS SITTING THERE FOR 20 MINUTES BUT NOBODY CAME... HE SAW A BIG PICTURE OF ARZOO HANGIN ON THE WALL... SUDDENLY THE DOOR OPENED AND AN OLD WOMAN ENTERED THE ROOM... MORE THAN, MURAD THE OLD WOMAN WAS SURPRISED AND ASKED MURAD... "WHO R U"... MURAD TOLD HER THAT HE GAVE THE LIFT TO HER DAUGHTER..TH OLD WOMAN ASKED IN A WEIRED VOICE "WHAT! DAUGHTER?" ..MURAD REPLIED "THE ONE WHOSE PICTURE IS ON THE WALL"... THE OLD WOMAN REPLIED "THE GIRL IN THE PICTURE, DEAD 2 YEARS BACK IN AN ACCIDENT AND U R THE THIRD BOY WHO HAVE COME TO MY HOUSE IN THE SAME CIRCUMSTANCES"...
Address of Cheel Kothi: 128-I, Allama Iqbal Road, Near Burgertime, Cheel Kothi, Karachi, Sindh, Pakistan.
(note that: CHEEL KOTHI AND LAL KOTHI ARE DIFFERENT KOTHIES).
..,.
Address of Cheel Kothi: 128-I, Allama Iqbal Road, Near Burgertime, Cheel Kothi, Karachi, Sindh, Pakistan.
(note that: CHEEL KOTHI AND LAL KOTHI ARE DIFFERENT KOTHIES).
..,.

